اقبال کی خودی کا مفہوم

تحریر : نورالہدیٰ اسلم

اقبال کی خودی کیا ہے, اس کا مطلب کیا ہے, اس کا مقصد کیا ہے, اس کے پیچھے کا فلسفہ کیا ہے, کیا یہ واقعی ذاتِ عرفان کا دوسرا نام ہے ؟

خودی کا مطلب تو اپنی ذات کی اونچائی ہے لیکن کیسی اونچائی؟ وہ اونچائی جو انسان کو تکبر کے زمرے میں لا کھڑا کرے یا وہ کہ وہ خود کو اور چھوٹا محسوس کرے …

خودی! یعنی اپنے آپ کو بلند سمجھنا. سمجھنا کہ میں بھی سب کچھ کر سکتا ہوں . میں جو سوچتا ہوں وہ ممکن ہے. میں نے جو دماغ میں فرض کر لیا ہے اگر اس پر پختہ یقین رکھوں تو اس کو عملی جامہ بھی پہنایا جا سکتا ہے لیکن جب اس چیز کو عملی زندگی میں لائیں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ کتنا مشکل ہے

جب آہستہ آہستہ ہم پر کائنات کے رازغوروفکرکی سعی کر کے اپنی ذات کو بلند کرنے سے  افشا ہوتے جاتے ہیں  تو ہم خود کو چھوٹا محسوس کرنے لگتے ہیں کہ میں اس کائنات کے علم کے مقابلے میں تو کچھ بھی نہیں! اسکی وسعت کا تصور بھی مشکل ہے اور جو علم مجھے ملا ہے وہ اس کا ایک قطرہ بھی نہیں, کہ جیسے اک بچہ جب کبھی کوئی نیا لفظ سیکھتا ہے  تو وہ اسکو کتنا دلچسپ لگتا ہے کہ اس نے بہت کچھ سیکھ لیا ہے لیکن جوں جوں وہ بڑا ہوتا جاتا ہے اور اس کا واسطہ ہزاروں الفاظ سے پڑتا ہے تب اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ جو ایک لفظ اس نے سیکھا تھا وہ ان ہزاروں الفاظ کے سامنے تو کچھ بھی نہیں، تب انسان کو اپنی اوقات کا اندازہ ہوتا ہے اور پھر وہ صحیح معنوں میں شکِر الہی بجا لاتا ہے اور پھر اس کا یہ “جاننے کا سفر” مستقل ہو جاتا ہے۔ تو اس طرح وہ دوسرے انسانوں سے افضل ہو جاتا ہے لیکن پھر بھی وہ اپنی ذات کو کم تر ہی سمجھتا ہے, عاجزی اختیار کرتا ہے اور جستجو میں ہی رہتا ہے اور اس کی اسی جستجو کی وجہ سے وہ دوسروں کے مقابلے میں عظیم ہو جاتا ہے اور دوسرے اس کی ذات کو بلند سمجھتے ہیں۔

یہی اقبال نے اپنے ساتھ کیا تو وہ دنیا پر چھا گئے. لوگ ان کو عظیم فلسفی کہتے ہیں۔ وہ شاعرِ مشرق ہیں لیکن وہ اس مقام پر کیسے پہنچے یہ بات انہوں نے خود ہی اپنے فلسفۂِ خودی میں بتا دی ہے، یعنی ‘پہلے اپنی ذات کو بلند کیا، جب قدرت نے خود کو ان پر افشا کیا تو ان کا جہد مسلسل شروع ہوا اور نتیجتاً وہ عظیم بن گئے .’

یہ عظیم ہونا کیا ہوا پھر؟

جو عظیم ہوتا ہے وہ خود کو عظیم نہیں کہتا دنیا اس کو عظیم کہتی ہے کیونکہ عظیم بننے کے سفر کو طے کرتے ہوئے اسے اتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ وہ اس مرحلے پر آ جاتا ہے کہ پھر خود کو عظیم نہیں کہہ پاتا (کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی یہ کوششیں کامل علم کے آگے کچھ بھی نہیں) تب دنیا اس کو بڑا کہنا شروع کر دیتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.