کبھی دیکھی ہے تم نے یہ دہری اذیت؟

از اقراء فاطمہ

کبھی دیکھا ہے تم نے لفظوں کی گردانوں سے

آنسوؤں کی گردان تک کا سفر

لفظوں کو ادا کرنے سے پہلے

آنکھوں کی نمی دل کے غم بھینچ جانا

لفظوں کا ساتھ چھوڑ جانا, آنسوؤں کا رواں ہو جانا

دل کے سارے غم چھپا کر مسکرا دینا

آنسوؤں کے سبب آنکھیں جھکا دینا

لفظوں کا سسکیوں سے ٹوٹ جانا

دل کے آئینے سے ہر حرف مٹ جانا

بے بسی میں بس چپ! لفظوں کے بغیر باتیں کرنا

کبھی دیکھی ہے تم نے یہ دہری اذیت؟

اپنے آنسو چھپا کر , زبردستی مسکرا کر

شدید غم میں بھی کوئی تمسخر اڑا کر

اپنوں کے چہروں پر جھوٹی ہنسی بسا کر

اندر کے سارے طوفان سنبھال کر

پر وقار سا خطاب دینا

کبھی خوشی کا درس دیتے دیتے جو آنسو سے جل تھل ہونا

دل کا ڈوب جانا اور یوں ٹوٹ جانا کہ بس

لفظ ہار جائیں

سارے تجربے بے کار جائیں

کبھی دیکھی ہے تم نے یہ دہری اذیت

زندگی کا اداکار بن جانا

ہر غم پر مسکرا جانا

بڑی ہمت چاہئے آخر ,ہر آخری ٹیس پر بھی

, زندگی کی ہر کاری ضرب پر

قسمت کے لکھے اصول پر, سزاۓ بے قصور پر

زندگی کے ہر پل، زمانے کے ہر دستور پر

کبھی دیکھی ہے تم نے یہ دہری اذیت ؟

شکستہ حال سے کسی سفر پر

جہاں ہر پل ہارنے کا ڈر ہو

پاؤں بھی شل ہوں اور منزل بھی دور ہو

جسم کا آخری عضو تک جواب دے جاۓ اور آگے چلنا ہو

تاریک سی راہوں پر انجان لوگوں سے

بڑے پر تپاک انداز میں ملنا ہو

خاموش دل سے, آہوں کے بغیر

بس چلتے جانا ہو , کیوں کہ یہی دستور دنیا ہے

کبھی دیکھی ہے تم نے یہ دہری اذیت ؟

لال آنکھوں, شل پاؤں اور روٹھے دل سے

کبھی بیچ آنسوؤں کے مسکرا دینا اور یہ کہہ دینا

چل زندگی ایسے خوش, ایسے ہی جی دیتے ہیں

کبھی دیکھی ہے تم نے یہ دہری اذیت ؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.