خودی نامہ

خودی نامہ

مصنف: مريم اسد

نومبر کی شام تھی, انجبین چھت کی سیڑھیوں میں بیٹھی چائے کے مگ سے نکلتے دھوئیں کوتکے جارہی تھی۔ نہ جانے کن سوچوں میں گم تھی۔ ماضی کی خلش تھی یا شاید روح کے مر جانے پر ماتم تھا۔ شاید قلب کے بنجر ہو جانے پر رنج تھا۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ اپنی ذات کے کھو جانے کا ملال ہو اسے۔ یا خدا سے بچھڑ جانے کا۔ وجہ جو بھی تھی مگر یہ طے تھا کہ وہ حواس میں نہیں تھی۔ اس کی آنکھیں چائے کے دھوئیں میں دور کہیں کچھ ڈھونڈ رہی تھیں۔ انجبین ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں جو زیادہ مذہبی نہیں تھا۔ وہ کیسے دین کی طرف آئی، آئی بھی یا یہ صرف اس کی سوچ کا خمار تھا، معلوم نہیں۔ مگر بہت یقین تھا اسے خدا پر۔ ذہن میں باتیں کرتی رہتی اللہ سے۔ نماز میں، سجدے میں اپنے مسلے بیان کرتی رہتی اور خوش ہو جاتی۔ اس کےذہن نے ایک خیال پیدا کر لیا تھا خدا کا، کہ وہ اس کے پاس ہے۔ وہ اپنے تخیّل میں اس کی طرف ہاتھ بڑھاتی اور وہ اس کا ہاتھ تھام لیتا۔ اسی لمحے اسے سکون آ جاتا۔ اسی  طرح اسے مزید  شوق پیدا ہوتا گیا خدا کے مزید قریب ہونے کا۔ اپنی امی کے پاس بیٹھ کر قرآن پڑھتی اور دل میں مسکراتی رہتی کہ خدا سے باتیں کر رہی ہے۔ اس نے سنا تھا کہ اللہ کے نیک بندوں کو تہجد کے وقت فرشتوں کے پروں کے پھڑپھڑانے کی آوازیں آتی ہیں۔ وہ تہجد کے لیے بھی اٹھنے لگی۔

کہہ لو کہ بندگی کی سیڑھیوں پر تھی۔  پھر وہی ہوا جس کا خدا نے پہلے سے ہی بتا رکھا ہے: امتحان۔  خدا نے ہی کہا ہے نہ کہ وہ اپنے برگزیدہ بندوں کا امتحان لیتا ہے، تو انجبین کا امتحان بھی لے لیا۔ امتحان میں کیا آیا؟ مجازی محبت۔ نتیجہ کیا ہوا؟ ناکامی۔ اللہ نے اس کو اس گھڑے سے بچا تو لیا مگر وہ ایمان کے اس درجے پر نہیں رہی تھی۔ اب جب  وہ خدا کی طرف ہاتھ بڑھاتی تو خود کو تنہا، روشنی سے دور، تاریک گڑھے میں پاتی۔ وقت کے ساتھ ساتھ گڑھا مزید گہرا ہوتا گیا۔ مگر اس نے ہمت نہیں ہاری۔ خدا سے رابطہ قائم رکھا۔ خدا اسے اس کی عبادت کا صلہ دیتا گیا اور کامیابی سے نوازتا گیا (دنیاوی کامیابی)۔ اب اس کا دوبارہ امتحان لیا گیا۔ اس دفعہ اس کے نفس اور ‘میں’ کا۔ آخر اگر کچھ بڑا حاصل  کرنا ہے (خدا کی قربت) تو کچھ بڑا کھونا بھی تو پڑے گا نہ (نفس اور میں)۔ مگر وہ پھر ناکام ہوئی۔ شاید کچھ قربان کرنے کے لئے تیار نہ تھی۔ بس پھر گڑھا مزید گہرا اور تاریک ہو گیا۔ اب اسے اللہ سے شکایت رہنے لگی تھی۔ ایمان کی کمزوری کی طرف پہلا قدم۔ اس کا شکر ایک خلا اور پھر ناشکری کی طرف سفر کرنے لگا۔ اس کے دل میں یہی خیال رہتا کہ وہ تو ‘رب’ ہے۔ رب کے معنی پروردگار جو کے اپنے بندے کی ہر ضرورت کو مد نظر رکھتا ھے اور اسے نوازتا ہے۔ تو جو کمی اس میں رہ گئی تھی وہ اسے کیوں پورا نہیں کر رہا تھا۔ کیوں اسے ایسے لوگ نہیں مل رہے تھے جو اس کی مدد کرسکیں خدا کے ساتھ جڑنے میں۔ کیا یہ بھی ایک امتحان تھا؟ اس مرتبہ صبرکا؟ ان سوالوں کا انبار ایسا دل میں پڑا کہ نماز میں اس کا ذہن کہاں ہوتا اور وہ خود کہاں ہوتی۔ نماز کا معنی زمین پر ٹکر مارنا ہی رہ گیا تھا۔ اس نے تو خدا سے مدد مانگنا بھی چھوڑ دیا تھا۔ الفاظ  ہی نہیں ملتے تھے اور نہ سمجھ آتی تھی کہ کیا مانگے؟ کس منہ سے مانگے؟ اس سب میں اس نے باقی سب تو چھوڑ دیا مگر نماز نہ چھوڑی۔ اسے خوف تھا کہ اگر یہ بھی چھوٹ گئی تو وہ ناکامی کی ایسی اتاہ گہرائیوں میں گرے گی کے لوٹنے کا راستہ نہیں ملے گا۔

                     ابھی بھی وہ سیڑھیوں میں بیٹھی یہی سوچ رہی تھی کہ وہ جہاں چاہے چلی جائے، وپس تو خدا کے پاس ہی آئے گی۔ آخر دوستی جو مانتی تھی اسے۔ اور دوست سے ناامید کون ہوتا ہے؟