Snap Streak

By Muhammad Waseem

Excerpt from Book-Ad Duha

” او شِٹ “

بائیولوجی لیب میں کام کرتے ہوئے، اچانک اسکی دوست نے افسردگی سے کہا۔ اس کا ری ایکشن دیکھتے ہی وہ چونک گیا۔ اسے لگا شاید اس کی دوست نے ایکسپیریمنٹ کرتے ہوئے کوئی غلطی کر دی ہے ” کیا ہوا تم ٹھیک ہو ؟؟؟

” یار سارہ نے سٹرِیک توڑ دی ہے “

اس کی آواز میں تلخی تھی۔ مجھے شدید غصّہ آرہا ہے اس پے وہ ہمیشہ ایسے کرتی ہے۔ عبدالہادی نے اس کی لہجے کی کرواہٹ دیکھتے ہوئے اس کونارمل کرنے کی کوشش کی “چلو کوئی بات نہیں ایک سنیپ چیٹ سٹرِیک ہی تو تھی تم دوبارہ شروع کر دینا ” “

 عبدالہادی! تمہیں پتا نہیں ہے کتنا دکھ ہوتا ہے جب کسی سے سٹریک ٹوٹ جاتی ہے۔ تم سنیپ چیٹ استعمال نہیں کرتے لہذا میرا دکھ نہیں سمجھ سکتے ” عبدالہادی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ” سہی کہتی ہو تم  “بلکہ مجھے تو ان سٹرِیکس کے بارے میں علی نے بتایا تھا ورنہ اس سے پہلے میں ان سے بھی بے خبر تھا ” اس نے بات کو جاری رکھا۔

اسی لئے تم سٹریک ٹوٹنے کا درد نہیں سمجھو گے، اسکی دوست نے ایکسپیریمنٹ مکمل کرتے ہوئے جواب دیا۔

شام ہو چکی تھی اور تقریباً تمام کلاسسز اپنے اختتام کو پہنچ چکی تھیں اور شائد اسی لئے اس وقت یونیورسٹی میں لوگوں کی چہل پہل قدرے زیادہ تھی۔ اسکے ساتھ معمول سے زیادہ بڑھتی ہوئی سردی اور ٹھنڈی ہوا نے لوگوں میں ایک پھرتی پیدا کردی تھی ۔ ہر شخص تیزی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا۔ عبدالہادی نے پارکنگ سے اپنی بائیک نکالی اور گھر کا رخ کیا۔ اس کا گھر یونیورسٹی سےکوئی 30 منٹ کی دوری پر تھا۔ جب وہ گھر پہنچا تو دن ڈھل چکاتھا۔ اس کے برف سے جمے سرخ ہاتھ اور ناک باہر کی سردی کی سختی کی خبر دے رہی تھی۔ دِن بھر کی تھکن کے باعث وہ گھر آتے ہی سو گیا۔

” حیّ علی الصّلاة ” ” حیّ علی الصّلاة “

کمرے کی ونڈو سے آذان کے الفاظ اسکے کانوں میں پڑ رہے تھے۔ عبدالہادی نیم بیداری میں اپنے بستر پے پڑا ان الفاظ پے غور کرنے لگا۔ اس سے پہلے اس نے اتنی توجہ آذان کے معانی پر نہیں دی تھی لیکن نہ جانے کیوں آج اس کے ذہین میں یہ بات آئی اور وہ کافی دیر اسی سوچ کے ساتھ بستر پر لیٹا رہا۔

وہ عشاء کی نماز کی ادائیگی کے بعد اپنے کمرے کی بالکنی میں کھڑا، سڑک پر تیزی سے گزرتی گاڑیوں کو دیکھ رہا تھا۔ یخ بستہ ہوا اسکی آنکھوں میں چمک پیدا کر رہی تھی۔ ” کتنا دکھ ہوتا ہے جب کسی سے سٹرِیک ٹوٹ جاتی ہے” اسکی دوست کے الفاظ غیرارادی طور پراسکی سوچوں کے سمندر میں ٹھاٹھیں مارنے لگے۔

“!سنیپ سٹریک”

کتنی اہم ہو چکی ہے لوگوں کے لیے؟ اسے اپنی دوست کے ایکسپریشن یاد آرہے تھے ۔ ہم کتنا دکھی ہوتے ہیں جب کوئی ہماری سنیپس دیکھ رہا ہو اور ان کا کوئی رسپانڈ نہ کررہا ہو۔ ہم ان اسٹریکس کو کتنا سیریس لیتے ہیں اور جب کوئی جان بوجھ کےسٹریک توڑ دے تو اس سے ناراض ہو جاتے ہیں۔ یہ سب سوال وہ خود سے کرہا تھا۔ اسی اثناء میں اسے اذان کے وہ الفاظ یاد آئے جو نیم بیداری میں آج اسکے کانوں میں پڑے تھے

” حیّ علی الصّلاة ”

وہ کافی دیر تک ان کو سوچتا رہا۔ ” یہ بھی ایک سٹریک ہی تو ہے جو اللّہ اپنے ہر بندے کو ہر روز بھیجتا ہے ” اس نے خود سے کہا.

 ہماری سٹریک توڑ دی جائے تو ہم اپنے دوستوں سے ناراض ہوتے ہیں اور ان سے دوبارہ سٹریک شروع نہیں کرتے جو سٹریک توڑ دیتے ہیں۔ لیکن اللّہ اپنی سٹریک نہیں توڑتا۔ وہ اس بات سے خفا نہ ہو کر بھی کہ ہم اسکی سٹریکس کا کوئی جواب نہیں دیتے، ہمیں لگاتار سٹریکس بھیجتارہتا ہے۔ لیکن اس وقت کیا ہوگا جب وہ اپنی سٹریکس روک دے گا؟ اس وقت ہم اس سے طلب کریں گے کہ شاید وہ سٹریک دوبارہ شروع ہولیکن وہ اب ایک حسرت بن چکی ہوگی۔ اسکی آنکھیں خوف و دکھ سے بھری تھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.